ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل: سیرت ﷺ کا  عقیدت و کرشماتی پہلو سے زیادہ حکمت عملی ، رہنمائی اور مشعل ِ راہ کے لئے مطالعہ کریں : مولانا ڈاکٹر محی الدین غازی

بھٹکل: سیرت ﷺ کا  عقیدت و کرشماتی پہلو سے زیادہ حکمت عملی ، رہنمائی اور مشعل ِ راہ کے لئے مطالعہ کریں : مولانا ڈاکٹر محی الدین غازی

Fri, 29 Oct 2021 19:32:16    S.O. News Service

بھٹکل:29؍ اکتوبر(ایس اؤ نیوز)قرآن مجیدمیں اللہ کے نبی ﷺ کےکرشماتی پہلووں سے زیادہ حکمت علمی ، رہنمائی اور مشعل راہ کے پہلووں کو زیادہ پیش کیا گیا ہے۔ آخری رسول ﷺ کی سیرت کے واقعات ، اسفار، معرکے اور فتوحات میں کرشماتی پہلو کی بہ نسبت  حکمت عملی اور رہنمائی کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ سیرت ﷺ کا مطالعہ ہمیں صرف دادِ عقیدت دینے اور عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کے لئے نہیں بلکہ رہنمائی کے لئے، مشعل راہ کے طورپر کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہارماہنامہ  زندگی نو دہلی کے مدیر ، جماعت اسلامی ہند کے رکن نمائندگان ومرکزی مجلس شوریٰ مولانا ڈاکٹر محی الدین غازی نے کیا۔

وہ یہاں بروز جمعرات 28اکتوبر 2021بعد نماز عشاء  جماعت اسلامی ہند بھٹکل کی جانب سے منعقدہ ’’سیرت النبی ﷺ حالات حاضرہ کے تناظر میں‘‘ پروگرام میں مہمان ِ خصوصی کے طورپر خطاب کررہے تھے۔ موصوف نے سیرت ﷺ کو حالات کے تناظر میں پیش کرتےہوئے کہاکہ قرآن مجید اور سیرت ﷺ کوصرف ثواب و فضائل کی حدتک محدود نہ رکھیں بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں سیرت ﷺ سے ہمیں کیا پیغام ملتا ہے اس کو دھیان میں رکھ مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ معراج اور ہجرت کے واقعے میں واقعی کیا فرق ہے اور اس سے رہنمائی حاصل کرنےکی تلقین کی۔ انہوں نے کہاکہ اللہ کے نبی ﷺ کی زندگی کے واقعات، اسفار، معرکے اور فتوحات میں حکمت عملی کا پہلو زیادہ ہے۔

مولانا نے نبی ﷺ کی مکی اور مدنی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئےکہاکہ مکی زندگی میں صبر تو مدنی زندگی میں اقدام کئے جانے کا پہلو ابھر کرآتاہے لیکن  ان دو ادوار کی زندگیوں میں جو مماثلت ہے وہ اوجھل رہتی ہے ، مطالعہ سےپتہ چلتاہےکہ مکی یا مدنی زندگی میں  اللہ کے رسول ﷺ مسلسل آگے بڑھتے رہے ، وہ مکی زندگی کی مشکلات، مصائب ، آزمائشیں ہوکہ مدنی زندگی کی جنگیں ۔ کسی بھی حالت میں نہ رکے ، نہ پیچھےہٹے ، نہ راستہ بدلا ، بلکہ جس نصب العین کو یعنی دین کو قائم کرنے کے لئے مبعوث کیاگیا تھا اسی مقصد کو لےکر آگے برھتے رہے ۔ان دونوں پہلووں کو اجاگر کرنےکے لئے موصوف مکی و مدنی زندگی سے مثالیں بھی پیش کیں۔ ڈاکٹر صاحب نےکہاکہ مدنی زندگی میں پیش آنے والی جنگیں رسول ﷺ کے منصوبے کا حصہ نہیں تھیں بلکہ وہ تو مسلط کی گئی تھیں ،جب مسلط ہوئیں تواس کا کرارا جواب بھی دیا ہے۔ مدنی زندگی میں بھی اللہ کے نبی ﷺ کا اصل منصوبہ اور مقصد اسلام کی دعوت ہی تھی۔ اگر ہم مدینہ کی دس سالہ زندگی میں ہونے والی جنگوں کو دیکھیں تو وہ ایک مہینے سے بھی زیادہ دن نہیں ہوتے ۔ بقیہ زندگی تمام دن دعوت اسلام کے لئے وقف تھے۔

ملک عزیز کی موجودہ صورت حال کو ایک جملےمیں سمیٹتے ہوئے کہاکہ ’کمزوری کی حالت اور نفرت کا ماحول ‘۔دعوت اسلام کی راہ میں کانٹوں سے نہیں الجھنا چاہئے  بلکہ انہیں نظر انداز کرنا چاہئےتاکہ نصب العین سے ہم ہٹے نہیں ۔ نہ دائیں بائیں دیکھنا ہے نہ رکنا ہے بلکہ آگے بڑھتے رہنے کے لئے ضروری ہے ہمارے سامنے ہمارا نصب العین ، مقصد واضح ہو۔ اس راہ کی حکمت عملی یہی ہےکہ کانٹوں سے الجھیں نہیں ، کیونکہ اللہ کے نبی ﷺ کی سیرت کامطالعہ کرتےہوئے یہی سمجھ میں آتاہے کہ آپﷺ کبھی بھی خانہ جنگی نہیں چاہتے تھے۔ مکی زندگی میں اپنی پوری طاقت جھونک دی تھی کہ خانہ جنگی نہ ہو۔ البتہ جو زیادہ کمزور ہیں ان کو ظالم کے ظلم سے بچانے کی تدبیریں کرنا چاہئے ۔ اس وقت لائحہ عمل یہی ہے کہ ہم بھی مظلوموں کو بچانے کی کوشش کریں۔ موصوف نے زور دے کر کہاکہ ظلم کسی پر بھی کیوں نہ ہو، اس کو روکنےکے لئے آگےبڑھیں۔ اس سلسلے میں دو رخی پالیسی اختیار نہ کریں ، اگر ہم ایسا کریں تو ہمارا موقف کمزور ہوگا ۔ اسی طرح کمزوری کی حالت میں اخلاقی قوت بہت بڑی طاقت ہوتی ہے اور یہی اخلاقی قوت آپ کی حفاظت کرتی ہے۔ اس تعلق سے انہوں نے شعبہ ابی طالب کا واقعہ پیش کرتےہوئے کہاکہ اپنے علاوہ سبھی کو دشمن سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے، کسی کو ازلی و ابدی دشمن نہ سمجھ بیٹھیں۔ اس موقع پر مدیر زندگی نےسیرت کے حوالے سے واقعہ پیش کرتےہوئےبتایا کہ کٹر دشمن بھی جگری دوست بن کر بے شمار فائدے دے سکتاہے۔ حالات سےمایوس نہ ہوں بلکہ سیرتﷺ کا مطالعہ حالات کے مطابق کرتے ہوئے عملی رہنمائی حاصل کرنےکی تلقین کی۔

پروگرام کا آغاز حافظ عبیدا لرحمن ابن مولانا امین رکن الدین کی تلاوت قرآن سےہوا۔ عزیزی احمد رکن الدین نے ہدیہ نعت پیش کی۔ مجلس العلماء اترکنڑا ضلع کے کنونیر مولانا سید زبیر ایس ایم نے مہمان خصوصی کا تعارف پیش کرتےہوئے استقبال کیا۔ قائم مقام امیر مقامی مجاہد مصطفیٰ نے شکریہ کلمات اداکئے ۔رکن جماعت اسلامی ہند مولانا محمد جعفر فقی بھاؤ ندوی نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ ڈائس پرجماعت اسلامی ہند اترکنڑا ضلع کے ناظم محمد طلحہ سدی باپا ، تنظیم  کے صدر ایس ایم پرویز، نائب صدر محمد ہاشم محتشم ، جماعت المسلمین بھٹکل کے نائب قاضی مولانا عبدالنور فکردے ندوی ، ایس آئی اؤ بھٹکل کے صدر محمد یوسف مارکیٹ موجود تھے۔ پروگرا م میں عوام کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ پروگرام کے بعد طعام کا اہتمام تھا۔


Share: